’’پولیس فلیگ ڈے‘‘کے موقع پر117پولیس اہلکاروں کو میڈل تقسیم کرنے کے بعد خطاب
بنگلورو،2؍اپریل(ایس او نیوز) وزیراعلیٰ سدارامیا نے پولیس اہلکاروں کو سخت تاکید کی کہ وہ بار بار تھانوں کی حدودمیں جوجرائم کے واقعات پیش آرہے ہیں انہیں کنٹرول کرتے ہوئے عوامی رابطہ اجلاس طلب کرکے شہریوں کے ساتھ بہتر تعلقات بنائے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے انتظامیہ میں محکمہ داخلہ ایک اہم محکمہ ہے۔ اگر سماج میں تمام افراد کو امن وامان کے ساتھ رہنا ہوتو پولیس اہلکاروں کو ایمانداری اور دلچسپی کے ساتھ کام کرنے کی اشدضرورت ہے اور کہا کہ ہر پولیس اہلکار میں عقلمندی اور صبرسے کام کرنے کا جذبہ قائم رہے تو ہی اسے ایک بہتر پولیس اہلکار ماناجاتا ہے، ورنہ محکمہ پولیس کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کورمنگلا کے کرناٹک اسٹیٹ ریزرور پولیس(کے ایس آر پی)میدان میں’’ پولیس فلیگ ڈے‘‘ کے موقع پر پولیس اہلکاروں میں’’چیف منسٹر میڈل’’ تقسیم کرنے کے بعد وزیراعلیٰ نے کہا کہ سماج میں خوشحالی،امن وامان اور نظم وضبط برقرار رکھنا ہوتو پولیس نظام بھی مضبوط ہوناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں اچھے اور برے لوگ ضرور ہیں، اچھے شہریان کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا اولین مقصدہے۔ جبکہ خراب افراد پر کڑی نظر رکھ کر انہیں سماج مخالف سرگرمیوں کو روکنے کے لئے کارروائی کرنی چاہئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس اہلکار چوبیس گھنٹے گشتی کے ذریعہ جرائم کی وارداتوں کے متعلق مقامی پولیس اہلکاروں کو جانکاری ضرور رہاکرتی ہے۔ پولیس اہلکار پہلے ہی سے ان پر کڑی نظر رکھ کر ایسے سماج مخالف غنڈہ عناصر کے خلاف بروقت کارروائی کریں تو جرائم کی وارداتیں رونما نہیں ہوسکتیں،انہیں ڈھیل دینے کا نتیجہ ہے کہ جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگاہے۔سدارامیا نے کہا کہ ریاست میں1952کے دوران پولیس ایکٹ عمل میں لایاگیاتھا۔اس وقت سے مسلسل’’پولیس فلیگ ڈے‘‘ منایاجارہاہے اور بہتر خدمت انجام دے رہے اہلکاروں کی نشاندہی کرکے انہیں چیف منسٹر میڈل سے نوازاجاتا ہے۔ جس سے ان کے حوصلہ بھی کافی بلند ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ117پولیس اہلکاروں میں مذکورہ میڈل تقسیم کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مانا کہ پولیس کو ہمیشہ دباؤ اور تناؤ کے درمیان کام کرناپڑرہاہے، اس کو بھلاکر دلیری اور ہمت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار جب تک اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہیں،اس وقت تک ایمانداری اور دیاننداری کے ساتھ کام کریں۔ہر محکمہ میں اچھے اور برے افراد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے کئی چیلنج بھرے معاملات کا سراغ لگاکر ملزمین کی گرفتاریاں عمل میں لاتے ہوئے معاملات حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارپوریشن سرکل کے اے ٹی ایم میں ایک خاتون بینک افسر پر حملہ کرنے والے ملزم کو لگ بھگ ڈھائی سال بعد گرفتار کیاہے۔ اگر ملزم کی گرفتاری عمل میں نہ آتی تو پولیس کو نااہل سمجھاجاتا۔ اس کے علاوہ پولیس نے حال ہی میں عصمت دری سمیت دیگر کئی اہم معاملات کو سجھاکر ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ اور کئی ملزمین کو گرفتار کرکے کروڑوں روپئے کا مسروقہ مال بازیافت کیاتھا اور اس مال کو واپس لوٹانے سے عوام میں پولیس کی عزت بڑھی ہے۔ اسی طرح پولیس اہلکاروں کو کام کرنے کابھی مشورہ دیا۔ وزیراعلیٰ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چندافراد کئی معاملات میں گواہی یا بیانات دینے سے گھبراتے ہیں جس کی وجہ سے90فیصد ملزمین کو سزا نہیں مل پارہی ہے اور کئی ملزمین کو آسانی سے ضمانت بھی ملنے لگی ہے۔ کئی غنڈہ عناصر نے یہ ثابت کررکھا ہے کہ ان کے مقدمات کی وکالت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پولیس اہلکاروں کو چاہئے کہ وہ ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت اکٹھاکرکے سزا دلانے کا کام کریں۔
کسانوں سے زبردستی قرضہ وصول نہ کریں: وزیراعلیٰ نے آج دوبارہ اپنی بات دہراتے ہوئے ریاست کے تمام قومیائی گئی بینکوں اور کوآپریٹیو سوسائٹی کو حکم دیا کہ وہ ریاست میں جاری قحط سالی کو مد نظر رکھ کر قرضہ دار کسانوں سے زبردستی قرضہ کی رقم وصول نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے3ماہ پہلے ہی قومیائی گئی بینکوں اور سوسائٹیس سے کسانوں سے زبردستی قرضہ وصول نہ کرنے کا حکم جاری کرایاہے۔ اس حکم نامہ کے خلاف اقدام کرنے پر ایسے بینک افسران کے خلاف حکومت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ہبلی میں ایک بینک نے مقامی کسان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پندرہ دنوں کے اندر قرضہ واپس لوٹانے کا حکم دیاہے۔ نوٹس جاری کرنے والے افسر کو رابطہ کرکے کسی بھی کسان کو نوٹس جاری نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
بارش ہونے پر ہی تملناڈو کو پانی:وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ریاست کے تمام ڈیم خصوصی طورپر کاویری طاس علاقوں کے چاروں ڈیم سوکھ چکے ہیں ایسے حالات میں تملناڈو کو ایک بوند پانی بھی جاری نہیں کیاسکتا۔ انہوں نے بتایا کہ کل تملناڈو کے چیف سکریٹری شیوداس مینانے کرناٹک کے چیف سکریٹری سبھاش چندر کنٹیا سے ملاقات کرکے تملناڈو کے لئے انسانی ہمدردی کے تحت دو ٹی ایم سی پانی جاری کرنے کی گزارش کی ہے۔ لیکن ان کی گزارش ریاست میں بارش ہونے پر ہی پوری ہوگی۔
پولیس ویلفیر فنڈ کے لئے افزود10کروڑ:وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ریاستی حکومت پولیس اہلکاروں کو بہتر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اپنے وعدہ کی پابند ہے۔ حکومت17ہزار پولیس اہلکاروں کو ترقی دینے کے علاوہ ان کے بھتے میں دو ہزار روپئے کا اضافہ کرچکی ہے۔ اب وظیفہ یاب پولیس اہلکاروں کے ویلفیر فنڈ کے لئے مزید10؍کروڑ روپئے کا فنڈ جاری کرنے کا حکم دیاگیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں وظیفہ یاب پولیس افسران ایک وفد نے ان سے مل کر بجٹ میں10کروڑ جو مختص ہوئے ہیں اس میں مزید 20کروڑ روپئے کااضافہ کرنے کی گزارش کی تھی، جس کے بعد حکومت نے مزید10کروڑ روپئے جاری کئے ہیں۔ گزشتہ تین دنوں سے جاری لاری ہڑتال پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس ہڑتال سے ریاستی حکومت کاکوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ معاملہ مرکزی حکومت کو ہی سلجھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی لاری اونرس کے وفد سے وزیربرائے ٹرانسپورٹ ملاقات کرکے ان کی مانگوں کو پورا کرنے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ ریڈی نے بھی ہڑتال واپس لینے کی گزارش کی ہے۔ اس موقع پر وزیر برائے داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور،آئی جی وڈی جی، روپ کمار دتہ پولیس کمشنر پراوین سود کے علاوہ اعلیٰ پولیس افسران موجود تھے۔